Jamia Binoria endorses Moroccan Moon Sighting for Britain

It should be clear that it is a duty upon Muslims living in non-Muslim countries to arrange for moon sighting in their country of residence and to place their trust in their own moon sighting as stated in the Ahadeeth to start and finish fasting with moon sighting.

If the moon can be sighted in one’s own country then the sighting of the closest Islamic country should be followed; the sighting of a distant country is not reliable.

Therefore in the following circumstances it is necessary for the Muslims in England to follow Morocco or Algeria which are closer to England in Shariah and to trust their moon sighting.It is not permissible to follow Saudia, Pakistan or any other country which is far from England.

Written by Mufti Abdul-Kareen Deenpuri
21st of Ramadhan 1424

Urdu Translation:

واضع رہے کہ غير مسلم ممالک ميں رہنے والے مسلمان باشندوں پر لازم ہے کہ وہ خود اپنے ملک ميں چاند دیکهنے کا اہتمام کریں اور اپنے ملک کی رویت کا اعتبار کریں۔

جيسا کہ حدیث شریف ميں ہے

حَدَّثَنَا أَبُو جَعْفَرٍ أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ الْقُرَشِيُّ ، ثنا يَحْيَى بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بُكَيْرٍ ، ثنا مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ ، عَنْ ثَوْرِ بْنِ زَيْدٍ الدِّيلِيِّ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ , أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَكَرَ رَمَضَانَ ، فَقَالَ : ” لا تَصُومُوا حَتَّى تَرَوُا الْهِلالَ ، وَلا تُفْطِرُوا حَتَّى تَرَوْهُ ، فَإِنْ غُمَّ عَلَيْكُمْ فَأَكْمِلُوا الْعِدَّةَ ثَلاثِينَ

ایک دوسری حدیث شریف ميں ہے

حَدَّثَنَا عَبَّاسٌ ، نا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ ، قَالَ : حَدَّثَنِي عِيسَى بْنُ عُمَرَ ، عَنِ السُّدِّيِّ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : ” صُومُوا لِرُؤْيَتِهِ ، وَأَفْطِرُوا لِرُؤْيَتِهِ ، فَإِنْ غُمَّ عَلَيْكُمْ فَأَكْمِلُوا الْعِدَّةَ ثَلاثِينَ

اگر اپنے ملک ميں چاند نہ دیکها جا سکتا ہو تو ایسی صورت ميں اپنے ملک کے قریب ترین جو بهی اسلامی ملک ہو تو اسی قریب ترین اسلامی ملک کی رویت کا اعتبار کریں، دور کے ممالک کی رویت کا اعتبا ر نہ ہو گا۔

لهذا صورت مسئولہ ميں برطانيہ کے مسلمانوں کيلئے شرعاً یہ ضروری ہے کہ مراکش اور الجزائر ميں سے جو ملک برطانيہ کے قریب ترین ہےاس کی رویت کا اعتبار کریں۔

سعودی عرب، پاکستان یا برطانيہ سے دور اور کسی ملک کی رویت کا اعتبار کرنا جائز نهيں  جيسا کہ علامہ کاسانی رحمہ الله فرماتے ہيں

هذا إذا كانت المسافة بين البلدين قريبة لا تختلف فيها المطالع ، فأما إذا كانت بعيدة فلا يلزم أحد البلدين حكم الآخر لأن مطالع البلاد عند المسافة الفاحشة تختلف فيعتبر في أهل كل بلد مطالع بلدهم دون البلد الآخر

محدث العصر حضرت مولانا علامہ سيّد محمد یوسف البنوری رحمہ الله رمطراز ہيں

حکم اللزوم فی البلاد المتاقربۃ کالبصرۃ و بغداد دون المتباعدۃ کالاندلس و خراسان، وهو المختا رعند بعد المشائخ الحنفيۃ، والمشهور عند الشافعيۃ، بل حکی الحافظ ابو عمر عليہ الاجماع

معارف السنن ج ۵ ص ٣۵